Humor: Modern Family

ﻣﺎﮈﺭﻥ ﻓﯿﻤﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ:
ﺩﻭﺳﺖ، ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ، ﮐﯿﺎ ﻧﺎﻡ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﺎﺭﯾﻔﺎﺯ -
ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ؟
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﻭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮬﺪﮬﺪ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ۔
ﺍﭼﮭﺎ؛ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺗﻮ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻧﺎﻡ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ؟
ﺟﻤﺒﻮﻟﯿﻼ -
ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ؟
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺧﻮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﺸﮏ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺁﻭﺍﺯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺑﭽﮧ ﻣﻨﮧ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔
منقول

Her kaam Government nay kerna hai?

✍ایک بڑے اسکول کے چھوٹے سے بچے کو جب میں نے کلاس میں ریپر پھینکتے دیکھا تو فورا بولا بولا
"بیٹا اس کو اٹھائیں"
تو اس بچے نے جھٹ جواب دیا کہ
"انکل ! میں کوئی سوئیپر تھوڑی ہوں، تھوڑی دیر میں سوئیپر انکل آ کر اٹھا لینگے۔"
یہ اس بچے کا جواب نہیں تھا، یہ اس اسکول کا جواب تھا جہاں سے وہ تعلیم حاصل کررہا ہے۔

✍میں نے کئی لوگوں کو بغیر ہیلمٹ اور بغیر سیٹ بیلٹ باندھے سگنل توڑتے ہوئے پاکستان کے ٹریفک کے نظام کو گالیاں دیتے دیکھا ہے۔

✍میں نے کئی لوگوں کو فٹ پاتھ پر پان کی پیک مارتے، اپنی گلی کے سامنے والی گلی میں کچرا ڈالتے، سگریٹ پی کر زمین پر پھینکتے اور پھر دبئی اور لندن کی صفائی ستھرائی کا ذکر کرتے دیکھا ہے۔

✍اپنے مکان کی تعمیر کے دوران اچھے خاصے درخت کو کاٹتے اور اور پھر سنگاپور کی ہریالی کا ذکر کرتے سنا ہے۔

✍میں نے کئی ماؤں کو چیختے ہوئے دیکھا ہے جو اپنے بچوں کو چیخ کر کہتی ہیں کہ چیخا مت کرو میں کوئی بہری نہیں ہوں۔

✍کئی باپوں کو مارتے ہوئے دیکھا ہے کہ جو بچوں کو کہتے ہیں آئندہ بھائی کو ہاتھ مت لگانا ورنہ ہاتھ توڑ دونگا۔

✍اپنے گھر کی گیلری کو بڑھاتے اور گلی گھیرتے دیکھا ہے اور ان ہی کی زبان سے امریکا اور یورپ کی چوڑی چوڑی گلیوں اور سڑکوں کا ذکر سنا ہے۔

✍میں نے مسجد کے باہر بیچ روڈ پر لوگوں کو گاڑی پارک کرتے دیکھا ہے کہ جن کو نماز کو دیر ہورہی ہوتی ہے اور پھر ان ہی لوگوں سے کئی کئی گھنٹوں حقوق العباد پر لیکچر سنا ہے۔

✍نجانے کتنے لوگوں کو شادی میں وقت کی پابندی اور سادگی پر جلتے کڑھتے دیکھا ہے اور پھر ان ہی کے گھر کی شادیوں میں وقت کو برباد ہوتے اور سادگی کی دھجیاں اڑتے دیکھی ہیں اور پتہ نہیں کتنے لوگوں کو

*ارے خیر چھوڑیں گزارش بس اتنی تھی کہ ہر کام سیاست دانوں یا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے*

✍کچھ کام ہمارے کرنے کی بھی ہوتے ہیں ۔ھم کو خود اپنے حصے کا کام پورا کرنا ھے، *جو اچھی چیز دیکھنا چاہتے ہیں وہ پہلے اپنے اندر لانی ھوگی۔*

*سوچیے گا ضرور* 👆

Today's Tip: Confidence Vs Arrogance





Learn to tell the difference between Arrogance & Confidence.

When we are confident we are willing to accept of being wrong.

But when arrogant we believe we can never be wrong and that is the biggest mistake in life..

Kahani: Kousar chore thi?

خواتین کے ایک   سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا، جلدی سے اُس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا،
" کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو؟"
اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا،
"میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں" ،
ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی۔۔
کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔،
"کیا بات ہے؟ کیوں جھگڑا ہو رہا ہے ؟ "
" مس  "  تلاشی لینے والی طالبہ بولی ،" کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی!"
ٹیچر وہیں تڑک سے بولی ، " پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے!"
کوثر تڑپ کر بولی، "  نہیں۔۔ نہیں ۔ ۔ ۔  مس میں چور نہیں ہوں!"
”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو" طالبہ بولی ،
”نہیں"   کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا "نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی"
ٹیچر آگے بڑھی اس نے کوثر سے بیگ چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی ۔اسے غصہ آگیا ٹیچر نے کوثر کے منہ پر تھپڑ دے مارا وہ زور زور سے رونے لگی ۔
ٹیچر نے دوسرا تھپڑ کوثر کو   مارنے کے لئے   کےلئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ایک بارعب آواز گونجی ، " ٹہرو "
ٹیچر نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ پرنسپل تھی نہ جانے کب کسی نے انہیں خبرکردی تھی۔۔۔
انہوں نے کوثراورٹیچرکو اپنے دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور واپس لوٹ گئیں ۔۔۔
پرنسپل نے پوچھا، "اب بتایئے کیا معاملہ ہے"
ٹیچرنے تمام ماجراکہہ سنایا۔۔۔
پرنسپل نے طالبہ سے بڑی نرمی سے پوچھا ”تم نے پیسے چرائے؟۔"
”نہیں" کوثر نے نفی میں سرہلا دیا۔۔۔
کوثر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے
”بالفرض مان بھی لیا جائے۔۔۔" پرنسپل متانت سے بولیں "جب تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں تم نے انکار کیوں کیا؟"
کوثر خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی ۔۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے۔۔
ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا، جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا۔۔۔
اس میں کیا راز ہے ؟پرنسپل سوچنے لگی۔۔
اور پھر کچھ سوچ کر پرنسپل نے ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا!
پرنسپل نے بڑی محبت سے کوثر کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر بولی ، : اپنا بیگ مجھے دو !"
کوثر نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کر دیا ، یہ ہاتھ سے بنا ہوا سادہ سا بیگ تھا ، جس پر کچھ سٹکر بھی لگے ہوئے تھے ، پرنسپل نے  کوثر کی طرف ایک نظر دیکھا اور  بیگ  کھول کر ،  بیگ کی چیزیں میز پر نکال کر رکھنا شروع کیں ، کتابوں اور کاپیوں  کے ساتھ ، ایک کالے رنگ کا  شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا۔ باقی بیگ میں کچھ نہیں تھا ۔
پرنسپل نے سوالیہ نظروں سے کوثر کی طرف دیکھا ،
کوثر کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو۔ اُس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں  آدھےکھائے ہوئے  برگر کے ٹکڑے ، آدھے سموسے، چوتھائی  نان  اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں۔۔۔
سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آ گیا ، اُس کی آنکھیں دھندھلا گئیں   وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھی روتی ہوئی کوثر کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگ گئی۔
کوثر نے  پرنسپل کو بتایا ، " میں گھر میں سب سے  بڑی ہوں ،   3 بہن بھائی  مجھ سے چھوٹے ہیں ،والد صاحب  نائب قاصد ریٹائر ہوئے  ہیں ، لیکن ریٹائرڈمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے ، اب تو بستر پر لگ گئے ہیں ۔گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے پنشن سے گذارا نہیں ہوتا ، امی پاس کے دو گھروں میں کام کرتی ہیں ، کھانا اتنا نہیں ہوتا کہ روزانہ پیٹ بھر کر کھایا جائے ، ہم اکثر بھوکے سوتے تھے ۔  ایک  شام میں نے اور امی نے کچھ نہیں کھا یا ، میں  صبح کھائے بغیر  کالج آرہی تھی  بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔ ایک تکہ کباب کی د کان کے آگے سے گذری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ادھ کھایا ایک چکن پیس پڑا دیکھا بے اختیار اٹھاکرکھا لیا قریبی نل سے پانی پی کر خداکر شکر ادا کیا۔۔۔

پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا ایک دن میں اُسی دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھررہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا اس نے مجھے دیکھا تو ندیدوں کی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر  حیران ہو گیا ، پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی ،واپس گیا اور رات کا بچا ہوا کھانا  پیک کر کے لا کردیا ، وہ میں بیگ میں ڈال کر سکول لے آئی ،   وہ ایک نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا میں نے اسے اپنے حالات سچ سچ بتا دئیے اسے بہت ترس آیا،  اب وہ اکثر ہمارے گھر  کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا ،برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال میرے لئے ، اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پررکھ دیتا ہے۔
جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر کتابوں کے بیگ میں رکھ لیتی ہوں ، کچھ کھاتی ہوں اور باقی  جاتے ہوئے گھر لے جاتی ہوں میرے امی ابو کو علم ہے میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں بہن بھائی چھوٹے ہیں انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ چھوٹی سی کہانی ، جسے پہلے میں نے  کسی قلم کار کا ہنر سمجھا تھا ، لیکن چند دن پہلے میں نے وزارت داخلہ  کے چپڑاسی کے بارے میں ٹی وی نیوز میں سنا ، جس نے اپنے گھر والوں کو فاقے سے بچانے کے لئے ،  چھت سے کود کر  اِس امید پر خود کشی کرلی کہ شائد سروس کے دوران مرنے والے  ملازم کی اولاد کو وہی نوکری مل جاتی ہے ، اُس خبر نے بھی مجھے غمزدہ کیا لیکن اِس کہانی نے تو رُلا دیا  ، مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے دل پر اِس کہانی نے کیا اثر کیا ؟لیکن ایک درخواست ہے ، کہ
خدا کے واسطے رحم کرو۔۔۔
غریبوں سے ہمدردی کرو ۔۔۔
جو اُس دانے  کے محتاج ہیں جو ہم ، ڈسٹ بِن میں ڈال دیتے ہیں ۔
ہم کتنے افراد کا رزق جو اللہ نے اُن کے لئے پیدا کیا ، پیسے کے بل پر ذخیرہ کرکے اور کھانے کی صورت میں ضائع کر دیتے ہیں،
پھر سوچتے ہیں کہ اگر اللہ  نے ہر جاندار کے رزق کی ذمہ داری اپنے اوپر فرض کی ہے تو لوگ بھوکے کیوں مرتے ہیں ؟
اٗن لوگوں کی بھوک کا ذمہ دار میں ہوں ، آپ ہیں اور ہم سب ہیں ۔
یقینا ہم میں سے کسی نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ہم روزانہ کتنا کھانا ضائع کرتے ہیں !😢😢😢

Kahani: chooha aur baba jee

‏درویش جنگل میں عبادت میں مشغول تھے کہ پتہ چلا چوہا تھر تھر کانپ رہا ہے.
‏انہوں نے پوچھا کیا بات ہے میاں ؟
‏چوہا بولا میری کوئی زندگی ہے، جب دیکھو بلی کھانے کو دوڑتی ہے!
‏درویش کو دکھ ہوا, فرمایا اگر تجھے بلی بنا دوں تو؟
‏وہ بولا زندگی بھر مشکور رہوں گا.

‏کئی روز بعد درویش نے "خوفزدہ بلی" کو دیکھا.
‏پوچھا کیا ہوا؟ بلی بولی آپ نے چوہے سے بلی بنا تو دیا. مگراب کتے  پیچھے پڑ گیے ہیں.
‏.درویش نے کہا کیا چاہتا ہے تو؟ بلی نے عرض کی حضرت کتے سے طاقتور جانور بنا کے جان بچا لیجیے. درویش نے کچھ سوچا, اس پر پھونک ماری تو بلی لومڑی میں تبدیل ہو گئی
‏چوہا میاں لومڑی میں تبدیل ہو کر روپوش ہو گئی.

‏چند مہینے بعد لومڑی درویش کے آگے پسینے سے شرابور کھڑی تھی.
‏لومڑی نے دہائی دی آپ کا آخری دیدار کرنے آیا ہوں،جنگل کا
بادشاہ دشمن بن چکا، موت کا پروانہ جاری ہو چکا ہے.
درویش نے کچھ سوچا, اس پر پھونک ماری تو
‏تھوڑی دیر بعد چوہا حیران رہ گیا.درویش اسے شیر میں تبدیل کر چکا تھا
‏چوہے سے طاقت ور ترین شیر بن جانے پر اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔
‏درویش نے کہا جا تو آزاد ہے.
‏شیر نے درویش کے ہاتھ پاؤں چومے, راستے میں  جنگل کے پرانے باشاہ کو شکست دی.
‏تمام جانوروں نے بلا مقابلہ نیا بادشاہ تسلیم کر کے سر جھکا دیا.
‏چوہا تھا, جنگل کا بادشاہ بن گیا
‏چوہا شیر بنا،حکومت شروع کی. خوشامدی ادب سے بیٹھنے لگے تو شیر کو سرور آنے لگا۔
‏وہ اسمبلی, کچن کابینہ بنا بیٹھا.
‏وہ کبھی کبھار جنگل کے عوامی جانوروں کو دیدار کراتا۔
‏وقت اچھا گزر گیا.

‏ ایک دن بادشاہ کے کانوں میں گدھے کی گفتگو پڑی کہ پرانا بادشاہ دیدار نہ کراتا تھا، یہ کون ہے ؟
‏چوہے نے گدھے کی بات سنی تو ڈر گیا کہ اس کے چوہے سے شیر بننے کا راز صرف درویش کو معلوم ہے اور اگر اس نے کسی کو بتا دیا تو؟
‏یہ سوچ کر وہ گبھرا گیا.
‏اس نے درویش کی کٹیا کا رخ کیا جسے وہ عیش میں بھول گیا تھا۔
‏وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اسکی اصلیت کو جان سکے ۔۔
‏برسوں حکومت کرنے والا شیر وسوسے لئے درویش کے پاس پہنچا.
‏درویش نے پوچھا میاں کیسے آئے؟
‏اس نے کہا حضرت پاؤں چومنے. درویش ہنسا. اس سے پہلے کہ چوہا درویش تک پہنچتا، وہ چوہے میں تبدیل ہو گیا.

‏سبق:
اگر‏چوہا" کسی مرشد کی آڑ میں "شیر" بن جائے تو پھر مرشُد چوہا بنانے کا گُر بھی جانتے ہیں ۔۔ !!!۔🤢

Kahani: Aik shadi

ایک شادی پر جانا ھوا،ھال کے ایک کونے پر نظر گئی تو ایک جان پہچان والے شخص پر نظر پڑی...جو اکیلا ھی بیٹھا تھا..اس کے ساتھ جاکر میں بھی بیٹھ گیا...بڑی گرمجوشی سے ملا وہ شخص .... اس کا گاڑیوں کے پرزے اور انجن آئل وغیرہ کاکام ہے
حال احوال پوچھنے کے بعد ....وھی عام طور پر کی جانے والی باتیں شروع ھوگئیں....یعنی مہنگائی اور کاروباری مندے کا رونا.
کہنے لگا . ...آج کل کام کوئی نہیں چل رھا...اوپر سے گاھک بھی ایسے ھیں کہ سالوں کو مرنا بھولا ھوا ھے....خدا خوفی تو گویا ھے ھی نھیں، ابھی پرسوں کی بات ھے،ایک بندے نے گاڑی کا آئل تبدیل کروایا .....پچیس سو بل بنا....اس نے پیسے دیئے اور چلا گیا.....بعد میں پتا چلا کہ ایک ہزار کا نوٹ جعلی دے گیا...
اوہ..میرے منہ سے نکلا، پھر ؟؟؟
پھر کیا....بڑی گالیاں نکالی اسے....پتا نھیں کون تھا پہلی بار آیا تھا.    وہ تو شکر ھے میں نے آئل ھی جعلی ڈالا اس کی گاڑی میں،،،،ورنہ میں تو مارا جاتا.
اسی دوران “روٹی کھل گئی” کا نعرہ لگا اور پورے ھال میں گویا بھونچال آگیا..وہ مرغی کے قورمے کا ڈھیر پلیٹ میں لئے فاتحانہ انداز لیے واپس آگیا...میں سمجھا شاید میرے لئے بھی لے آیا کھانا..کہنے لگا،پاجی لے آو تم بھی ....بعد میں تو شادی ھال والے خراب کھانا دینا شروع کر دیتے ھیں.
میں اٹھا اور بریانی لے کر واپس آگیا.
اور اس سے پوچھا،اس جعلی ہزار کے نوٹ کا کیا  کیا تم نے؟؟
کرنا کیا ھے.....لڑکے والوں نے شادی پر بلایا ھے.....دلہے کے والد کو سلامی میں دے دیا وہ نوٹ.....اور میز کے نیچے چھپائی چار بوتلوں سے ایک نکال کر دو گھونٹ میں خالی کر دی...
اور چھے سیکنڈ دورانیے کا لمبا ڈکار لینے کے بعد دونوں ھاتھ جوڑے....عقیدت سے آنکھیں بند کیں اور بولا....شکر الحمداللہ

Kahani: aadab nahi jantay - Manners

بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سےپوچھا شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ہیں؟
کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ہاتھ سے کھانا، خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ہاتھ دھونا۔

بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ہو اور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وہا ں سے اٹھ کر آگے چل دیئے۔
شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا، سرکار وہ دیوانہ ہے لیکن شیخ صاحب پھر وہاں پہنچے پھر سلام کیا۔

بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ہو؟ کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ہوں گے۔

جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال رکھے۔ بہلول نے کہا کھانا تو کھانا، آپ بولنے کے آداب بھی نہیں جانتے، بہلول نے پھر دامن جھاڑا اورتھوڑا سا اور آگے چل کر بیٹھ گئے۔

شیخ صاحب پھر وہاں جا پہنچے سلام کیا۔
بہلول نے سلام کا جواب دیا، پھر وہی سوال کیا کون ہو؟
شیخ صاحب نے کہا، جنید بغدادی جو کھانے اور بولنے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے اچھا سونے کے آداب ہی بتا دیں؟
کہا نماز عشاء کے بعد، ذکر و تسبیح، سورہ اور وہ سارے آداب بتا دیئے جو روایات میں ذکر ہوئے ہیں۔ بہلول نے کہا آپ یہ بھی نہیں جانتے، اٹھ کر آگے چلنا ہی چاہتے تھے کہ شیخ صاحب نے دامن پکڑ لیا اور کہا جب میں نہیں جانتا تو بتانا آپ پر واجب ہے۔

بہلول نے کہا جو آداب آپ بتا رہے ہيں وہ فرع ہیں اور اصل کچھ اور ہے، اصل یہ ہے کہ جو کھا رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام، لقمہ حرام کو جتنا بھی آداب سے کھاؤ گے وہ دل میں تاریکی ہی لائےگا نور و ہدایت نہیں، شیخ صاحب نے کہا جزاک اللہ۔

بہلول نے کہا کلام میں اصل یہ ہے کہ جو بولو اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے بولو اگر کسی دنیاوی غرض کیلئے بولو گے یا بیھودہ بول بولو گے تو وہ وبال جان بن جائے گا۔

سونے میں اصل یہ ہے کہ دیکھو دل میں کسی مؤمن یا مسلمان کا بغض لیکر یا حسد و کینہ لیکر تو نہیں سو رہے، دنیا کی محبت، مال کی فکر میں تو نہیں سو رہے،کسی کا حق گردن پر لیکر تو نہيں سو رہے...!

Kahani: Stolen Cow - chori ki bhens

میراثی نے اونچی آواز میں کہا :
”مولوی صاحب چوری کی بھینس آپ کے باڑے سے نکل آئی ہے“
مولوی صاحب نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور سکتے کے عالم میں دیر تک میراثی کی طرف دیکھتے رہے۔ پنچائیت نے بھی ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ لوگ اٹھے اور آہستہ آہستہ محفل سے غائب ہونے لگے۔
میراثی پیغام دینے کے بعد واپس چلا گیا۔
مولوی صاحب خفگی‘ خجالت اور شرمندگی میں ڈوبتے چلے گئے۔ یہ کیفیت قدرتی تھی۔
ہم جس خطے میں رہ رہے ہیں وہاں مولوی صاحبان عزت اور ایمانداری کا نشان ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کو نماز بھی پڑھاتے ہیں‘ ان کے کلمے بھی سیدھے کرتے ہیں‘ ان کے جنازے بھی ادا کرتے ہیں اور ان کے چھوٹے بڑے تنازعے بھی نمٹاتے ہیں۔ آپ اندازا کیجئے اس ماحول میں گاؤں کے واحد مولوی صاحب پر چوری کا الزام لگ جائے اور وہ الزام بھی گاؤں کی پنچائیت میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے لگایا جائے تو مولوی صاحب کی کیا حالت ہو گی؟
ان مولوی صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ پنچائیت میں بیٹھے تھے۔ لوگوں کے تنازعوں کا فیصلہ کر رہے تھے۔ میراثی آیا اورمولوی صاحب کی عزت مٹی میں رول دی۔ لوگ اٹھ کر گھروں کو چلے گئے۔ مولوی صاحب سر پکڑ کر بیٹھے رہے ۔
میراثی تھوڑی دیر بعد ہانپتا کانپتا واپس آیا‘ مولوی صاحب کے دونوں پاؤں پکڑے اور روتے روتے کہا ”مولوی صاحب مجھے معاف کر دیں‘ چوری کی بھینس آپ کے باڑے سے نہیں نکلی، وہ آپ کے ہمسائے نے چوری کی تھی اور وہ وہیں سے برآمد ہوئی‘ مجھ سے غلطی ہو گئی ‘ میں اب گھر گھر جا کر آپ کی صفائی پیش کروں گا“
مولوی صاحب دیر تک میراثی کو خالی خالی نظروں سے دیکھتے رہے اور پھر آہستہ سے بولے
”نور دین! تم اب جو بھی کر لو، میں علاقے میں چور بن چکا ہوں۔ لوگ مجھے باقی زندگی چور مولوی ہی کہیں گے“
میراثی نے مولوی صاحب سے اتفاق نہیں کیا ، لیکن مولوی صاحب کی بات حقیقت تھی۔
دنیا میں سب سے قیمتی چیز انسان کی عزت ہوتی ہے‘ یہ اگر ایک بار داغدار ہو جائے تو یہ دوبارہ صاف نہیں ہوتی۔ اسلئے لوگوں پر الزام اچھالنے سے پہلے ہزار بار سوچ لیا کرو۔۔!!

Konsa deen theek hai? Which sect?

کون سے دین پر عمل کریں؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
استاذ محترم حضرت مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مدظلہم العالی
استاذ الحدیث جامعہ دارالعلوم کراچی

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ مولانا ہم کونسے دین پر عمل کریں؟ دیوبندی کچھ کہتے ہیں، بریلوی کچھ اورکہتے ہیں، اہلِ حدیث کچھ اور کہتے ہیں اور فلاں صاحب کچھ اور کہتے ہیں، فلاں کچھ اور کہتے ہیں شافعی یہ کہتےہیں، حنابلہ یہ کہتے ہیں ۔۔۔۔۔
میں تو ان سے ایک ہی بات کہتا ہوں کہ جو باتیں متفق علیہ ہیں تم ان پر عمل کرو اور مختلف فیہ میں تمہیں اختیار دیتا ہوں جس مسلک پہ چاہے عمل کرلو لیکن جو متفق علیہ باتیں ہیں ان پر تو عمل کرو، اچھا یہ بتاؤ فجر کی کتنی رکعتیں ہیں؟ دو یا چار؟ وہ کہتے ہیں دو (فرض) ، میں کہتا ہوں اس میں کس کا اختلاف ہے؟ دیوبندیوں کا؟ بریلویوں کا؟ اہلِ حدیثوں کا؟ یا مالکیہ کا شافعیہ کا حنابلہ کا؟ کس کا اختلاف ہے؟ ساری دنیا کے تمام مسلمان علماء متفق ہیں کہ فجر کی دو رکعتیں ہیں، پھر فجر کی یہ دو رکعتیں صبح صادق کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلے پڑھی جائیں گی اس میں کس کا اختلاف ہے؟ ظہر کی چار (فرض)، عصر کی چار(فرض)، مغرب کی تین(فرض)، عشاء کی چار (فرض)، ساری دنیا کے علماء متفق ہیں
آدمی جب نماز شروع کرے گا اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھے گا یہ متفق علیہ ہے، قیام سب کے نزدیک فرض ہے، رکوع سب کے نزدیک فرض ہے، سجدہ سب کے نزدیک فرض ہے، سجدہ دو ہوتے ہیں رکوع ایک ہوتا ہے اس میں کس کا اختلاف ہے؟
زکوة کی شرح ڈھائی فیصد ہے، اس میں کس کا اختلاف ہے؟ حنفیہ کا یا مالکیہ کا؟ شافعیہ کا یا حنابلہ کا؟ دیوبندیوں کا یا بریلویوں کا یا اہلِ حدیثوں کا؟ ساری دنیا متفق ہے کہ جناب زکوة ڈھائی فیصد ہوتی ہے.
رمضان کے جو روزے ہیں وہ انتیس ہوں گے یا تیس ہوں گے؟ اس میں کس کا اختلاف ہے؟
کونسا عالم ہے جو یہ کہتا ہے کہ روزے رمضان میں نہیں رکھے جاتے بلکہ جنوری میں رکھے جاتے ہیں؟
ساری دنیا کے مسلمان متفق ہیں کہ حج فرانس یا انگلینڈ میں نہیں ہوتا بلکہ مکہ مکرمہ، منی اور مزدلفہ میں ہوتا ہے
ساری دنیا کے مسلمان متفق ہیں کہ رمضان میں نہیں ہوتا ذوالحجہ میں ہوتا ہے
ساری دنیا کے مسلمان متفق ہیں کہ ذوالحجہ کی پہلی تاریخ کو نہیں ہوتا آٹھ ٨ سے لے کر تیرہ ١٣  کے درمیان ہوتا ہے
ساری دنیا کے مسلمان متفق ہیں کہ آٹھ ٨ کو منی میں ہونا چاہیے، نو ٩ کو عرفات میں ہونا چاہیے، نو ٩ کی شام کو مزدلفہ آئیں گے، مزدلفہ کے بعد منی آئیں گے، جمرات میں رمی کی جائے گی، طوافِ زیارت کیا جائے گا ساری دنیا کے مسلمان ایک ہی طریقے سے حج کرتے ہیں ایک ہی انداز سے نماز پڑھتے ہیں بس اتنی سی بات ہے کہ کسی کا ہاتھ تھوڑا اوپر بندھا ہوتا ہے کسی ہاتھ تھوڑا نیچے بندھا ہوتا ہے یہ چند انچ کے فاصلے سے اصل نماز میں کیا فرق پڑتا ہے؟
آپ دیکھیں دنیا کے تمام مسلمان اس پر متفق ہیں کہ زنا حرام ہے، شراب حرام ہے، سود حرام ہے، خنزیر کھانا حرام ہے وغیرہ. ساری دنیا کے مسلمان علماء متفق ہیں
(لم يخالف فيه أحد من العلماء و لا أحد من المسلمين.)
ساری دنیا کے مسلمان متفق ہیں کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے گا، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے گا، پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے گا
کون عالم ہے جو کہتا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کیا جائے گا؟
اس لیے یہ سمجھنا کہ دین مختلف فیہ ہے اور اختلافات کو ہوا دینا اور پھر ان اختلافات کی بِنا پر مسلمانوں کی تکفیر کرنا، یہ سب کا سب گمراہی کے اندر داخل ہے کیونکہ کے تمام مسلمان اصولی باتوں پر متفق ہیں۔۔۔

A hole in boat - kishti main sorakh

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کے احکام کو توڑتے ہوئے دیکھتا ہے مگر ٹوکتا نہیں، اس کے ساتھ رواداری برتتا ہے، ان دونوں کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کچھ لوگوں نے ایک کشتی لی۔ اس کشتی میں مختلف درجے ہیں، اوپر نیچے۔ چند آدمی اوپر کے حصے میں بیٹھے اور چند نچلے حصے میں، تو جو لوگ نچلے حصے میں بیٹھے تھے، وہ پانی کے لیے اوپر والوں کے پاس سے گذرتے تاکہ سمندر سے پانی بھریں تو اوپر والوں کو اس سے تکلیف ہوتی۔ آخر کار نیچے کے لوگوں نے کلہاڑی لی اور کشتی کے پیندے کو پھاڑنے لگے۔ اوپر کے لوگ آئے اور کہا تم یہ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں پانی کی ضرورت ہے اور سمندر سے پانی اوپر جاکر ہی بھرا جاسکتا ہے اور تم ہمارے آنے جانے سے تکلیف محسوس کرتے تو اب ہم کشتی کے تختوں کوتوڑ کر سمندر سے پانی حاصل کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مثال دے کربیان فرمایا: اگر اوپر والے نیچے والوں کا ہاتھ پکڑ لیتے اور سوراخ کرنے سے روک دیتے ہیں تو انہیں بھی ڈوبنے سے بچالیں گے اور اپنے کو بھی بچالیں گے، اور اگر انہیں اس حرکت سے نہیں روکتے اور چشم پوشی اختیار کرتے ہیں تو انہیں بھی ڈبوئیں گے اور خود بھی ڈوبیں گے(بخاری)